7 ستمبر 2010 - 19:30

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آزادی کے سوا جو کچھ مانگنا ہے مانگیں وہ حکومت دے گی اور آزادی کی بات کرنے والوں سے بات نہیں کی جائے گی،

ان کا کہنا تھا کہ لشکر، آرمی اور لبریشن کے نام والی تمام تنظیموں پر پابندی ہوگی۔وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بات کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کرائے کے قاتلوں سے معصوم لوگوں کو مروایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے روڈ میپ طے کیا ہے اس پر عمل کرکے صوبے میں دہشت گردی پر قابو پایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی اور لسانی و فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کے لئے وزیر اعلیٰ ایف سی کو کسی بھی ضلع میں پولیس کے صوابدیدی اختیارات دینے کا حق رکھ سکے گا۔

فرنٹیئر کور کی تعیناتی کے اختیارات وزیر اعلیٰ بلوچستان کو دے دئے گئے ہیں اور ایف سی کے پاس پولیس کے اختیارات بھی ہوں گے ابتدائی طور پر وزیر اعلیٰ کے پاس یہ اختیارات تین ماہ کے لئے ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110